بنگلورو،یکم نومبر(ایس او نیوز)اُردو اسکولوں کی زبوں حالی پہلے ہی ایک کھلی کتاب کی طرح ہر ایک پر عیاں ہے۔ ایک طرف یہ رونا رویا جاتا ہے کہ ان اسکولوں میں تعلیم کا معیار گھٹیا ہے، انفراسٹرکچر گھٹیا ہے اور ڈسپلن برائے نام بھی نہیں۔ ان کے ساتھ اگر ان اسکولوں کو کوڑے دان میں تبدیل کردیا جائے تو شاید وہ لوگ جو ان اسکولوں کو ختم کردینے کی باتیں کرتے ہیں وہ کافی خوش ہوں گے۔
ایسا ہی معاملہ شہر کے قلب میں آنے والے شیواجی نگر میں واقع سرکاری حفیظیہ اردو اسکول کے ساتھ ہو رہا ہے۔ اس اردو اسکو ل کا وسیع وعریض میدان جو کبھی یہاں تعلیم کے لئے آنے والے بچوں کے کھیل کود کی جگہ ہوا کرتا تھا، برہت بنگلور و مہانگر پالیکے نے اسے کوڑے دان میں بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس اسکول کامیدان جو پہلے ہی ایک پرائمری ہیلتھ سنٹر اور پھر اس کے بعد اندرا کینٹین بنا دئیے جانے کے سبب تنگ ہو چکا تھا اب اس میدان میں بی بی ایم پی نے شیواجی نگر میں روز اٹھائے جانے والے کچرے کو ٹھکانے لگانے کا مرکز بنا نے کی تیاری کرلی ہے۔
یہاں پر شیواجی نگر کے مختلف محلوں سے روزانہ یکجا ہونے والے کچرے کے ساتھ بی بی ایم پی کی گاڑیوں کے طویل قطار کو اس میدان میں کھڑا کردیا گیا ہے۔ اردو اسکول کے اس میدان کوکوڑے دان میں بد ل دئیے جانے کی مقامی لوگوں نے شدید مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ حفیظیہ اردو اسکول جو اس علاقے میں تاریخی اہمیت کی حامل ہے اس کے میدان کو جس من مانی کے ساتھ تباہ کیا جا رہا ہے وہ قابل برداشت نہیں ہے۔ ان لوگوں نے بتایا کہ کافی دنوں سے علاقہ میں کوڑا اٹھانے کے بعد ان گاڑیوں کو حفیظیہ اسکول کے میدان میں ہی کھڑا کیا جا رہا ہے۔ کچرے کی بدبو کے سبب یہاں لوگوں کا رہنا دشوار ہو چکا ہے۔ حکام سے اس سلسلہ میں بار ہا درخواست کرنے کے وجود بھی کسی کی طرف سے کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔